امام حسینؑ کا خطبۂ منیٰ: علماء کے نام ایک اہم پیغام | حق پر قیام: خطبۂ منیٰ کا مرکزی پیغام
کربلا سے پہلے منیٰ میں امام حسین علیہ السلام نے امت کے علماء اور اکابرین سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے قرآن کی ان آیات کی طرف توجہ دلائی جن میں اللہ تعالیٰ نے علمائے یہود کی مذمت فرمائی ہے۔ ان کی مذمت علم کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کی گئی کہ وہ اپنے سامنے ظلم، فساد اور منکرات دیکھتے تھے مگر دنیاوی مفادات اور ظالموں کے خوف کی وجہ سے انہیں روکنے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر دین کا بنیادی فریضہ ہے۔ اگر یہ فریضہ معاشرے میں قائم ہو جائے تو دین کے تمام احکام اور الٰہی نظام خود بخود قائم ہو جاتے ہیں۔ یہی فریضہ اسلام کی دعوت، ظلم کے مقابلے، مظلوم کے حقوق کی بحالی اور عدل کے قیام کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد امامؑ نے علماء کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ عوام تمہارا احترام اس لیے کرتے ہیں کہ وہ تمہیں حق کا علمبردار سمجھتے ہیں، لیکن تم نے ائمہؑ کے حقوق، کمزوروں کے حقوق اور حق پر قیام کی ذمہ داری کو نظر انداز کر دیا۔ تم نے نہ دین کے لیے مال قربان کیا، نہ جان خطرے میں ڈالی، نہ اللہ کی راہ میں کسی باطل قوت سے ٹکر لی، پھر بھی جنت اور نجات کی امید رکھتے ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ نے امت کے دینی اور اجتماعی امور علماء کے سپرد کیے تھے، لیکن جب علماء حق سے ہٹ گئے، دنیا کو ترجیح دی، موت سے ڈر گئے اور ظالموں سے سمجھوتہ کر لیا تو ان کی یہ منزلت ان سے چھن گئی۔ نتیجتاً ظالم حکمران امت پر مسلط ہو گئے اور کمزور لوگ ظلم و استبداد کا شکار بن گئے۔ سید جواد نقوی اس پورے خطبے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ "عالم کی پہچان علم نہیں، حق ہے۔" علم کی اصل قدر اسی وقت ہے جب وہ حق کی پہچان، حق کی حمایت اور حق پر استقامت کا ذریعہ بنے۔ اگر علم انسان کو حق سے دور کر دے تو وہ نجات کا وسیلہ نہیں رہتا۔ اسی لیے کربلا کی بنیاد بھی حق پر قیام ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے یہ واضح کر دیا کہ اللہ کے نزدیک معیار شہرت، منصب یا علم کی کثرت نہیں، بلکہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ جب حق کو زندگی کا معیار بنا لیا جائے تو امر بالمعروف زندہ ہوتا ہے، عدل قائم ہوتا ہے، ظلم کا راستہ رکتا ہے اور یہی وہ پیغام ہے جس کے لیے امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے اصحاب کی قربانی پیش کی۔

Halat e Hazira (current affairs) | 24 July 2026 | Syed Jawad Naqvi | حالات حاضرہ

1st Khutba e Juma | 24 July 2026 | Syed Jawad Naqvi

If not Twelver Shias, we'd learn Islam from Ismaili Shias.— Syed Jawad Naqvi @ISMAILI_TV_1

Majlis 2 | Rahbar e Shaheed, Qayadat, Shahadat aur Tashyi | 20 July 2026

Aakhri Zamane Ki Nishani Puri Ho Gai | Maulana Syed Arif Hussain Kazmi

بنو امیہ کے درباری علماء AI سے بھی تیز | جعلی دین بنانے کے ماہر

Hazrat Abu Huraira Ki Aisi Haqeeqat Hosh Ur Jaey ? | Ayatollah Syed Aqeel ul Gharavi

How did Ameer Muawiyah RA pass away? Did the Banu Abbas dig up his grave? | Engineer Muhammad Ali...

Azwagi zindgi ki nazm o zabd .sayed jawad naqvi

نفس کی حقیقت | Nafs ki Haqikat | Allama Talib Johri

Majlis 4 | Rahbar e Shaheed, Qayadat, Shahadat aur Tashyi | 22 July 2026

Majlis 6 | Rahbar e Shaheed, Qayadat, Shahadat aur Tashyi | 25 July 2026

بعض علماء کی تیز چھریاں | جب بپھر جائیں، کسی کا خیال نہیں کرتے

lecture “Urdu Shayari Mein Sinf-e-Salam” by Ayatollah Aqeel Ul Gharavi

Majlis 4 | Muharram 1448 | Syed Jawad Naqvi | Hazrat Ali Akbar a.s

جیسی ترجیحات، ویسے خواب | صالحین اور عام انسانوں کے خواب میں فرق

2nd Khutba e Juma | 24 July 2026 | Halat e Hazira | Syed Jawad Naqvi

EP 202:Political Islam Explained Mawdudi, Iqamat al Din،سیاسی اسلام کی حقیقت کیا ہے؟، اسلامی انقلاب

Hazrat Qasim Ki Shadi | Maulana Syed Arif Hussain Kazmi

