Jawab-e-Shikwa Full Kalam | When God Replies | Allama Iqbal | جوابِ شکوہ
Experience the powerful divine response of Allama Iqbal's "Jawab-e-Shikwa" like never before ❤️ Jawab-e-Shikwa is the majestic reply from Allah to the famous "Shikwa" — a soul-stirring masterpiece that awakens the Muslim Ummah. This emotional and heart-touching kalam beautifully highlights faith, unity, self-respect, and the lost glory of Muslims. This stunning AI-generated video brings Iqbal’s timeless words to life with beautiful visuals and deep narration. ✨ Kalam: Jawab-e-Shikwa (جوابِ شکوہ) ✨ Poet: Allama Muhammad Iqbal ✨ Production: AI Generated Video If this kalam touched your heart, please like, comment your favorite verse, share it with your loved ones, and subscribe for more soulful Urdu poetry & Islamic Kalam. Full Lyrics: دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ... پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے ! قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہے ... خاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے ! عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا ... آسماں چیر گیا نالہء بیباک مرا ! پیرِ گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئی ... بولے سیارے سرِ عرشِ بریں ہے کوئی ! چاند کہتا تھا نہیں اہلِ زمیں ہے کوئی ... کہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی ! کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا ... مجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا ! تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا ... عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا ! تا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا ... آ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا ! غافل آداب سے سکانِ زمیں کیسے ہیں ... شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں ! اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے ... تھا جو مسجودِ ملائک یہ وہی آدم ہے ! عالمِ کیف ہے دانائے رموزِ کم ہے ... ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے ! ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو ... بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو ! آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترا ... اشکِ بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا ! آسماں گیر ہوا نعرہء مستانہ ترا ... کس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا ! شکر شکوے کو کیا حسنِ ادا سے تو نے ... ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے ! ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں ... راہ دکھلائیں کسے رہروِ منزل ہی نہیں ! تربیت عام تو ہے جوہرِ قابل ہی نہیں ... جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیں ! کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں ... ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں ! ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں ... امتی باعثِ رسوائیِ پیغمبر ہیں ! بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بتگر ہیں ... تھا براہیم پدر اور پسر آذر ہیں ! بادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئے ... حرمِ کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئے ! وہ بھی دن تھے کہ یہی مایہء رعنائی تھا ... نازشِ موسمِ گل لالہء صحرائی تھا ! جو مسلماں تھا اللہ کا سودائی تھا ... کبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا ! کسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کر لو ... ملتِ احمدِ مرسل کو مقامی کر لو ! کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے ... ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے ! طبعِ آزاد پہ قیدِ رمضاں بھاری ہے ... تم ہی کہہ دو یہی آئینِ وفاداری ہے ! قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں ... جذبِ باہم جو نہیں محفلِ انجم بھی نہیں ! جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو ... نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو ! بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو ... بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو ! ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کے ... کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے ! صفحہء دہر سے باطل کو مٹایا کس نے ... نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے ! میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے ... میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے ! تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو ... ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو ! کیا کہا بہرِ مسلماں ہے فقط وعدہء حور ... شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور ! عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور ... مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور ! تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں ... جلوہء طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں ! واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی ... برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی ! رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی ... فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی ! مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے ... یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے ! شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود ... ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود ! وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود ... یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود ! یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو ... تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو ! کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں ... یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں ! کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں ... یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں ! Thank you for watching! May Allah bless us all with true understanding and action. #JawabEShikwa #JawabeShikwa #AllamaIqbal #جواب_شکوہ #AllamaIqbalPoetry #IslamicPoetry #UrduPoetry #HeartTouchingKalam #EmotionalPoetry #SufiKalam #MuslimRevival #IqbalKalam #AIKalam #UrduShayari

Bang-e-dara: 120| Jawab-e-shikwa | The Answer To The Complaint | Allamaiqbal | Mukammalbaat

Tum Ek Gorakh Dhanda Ho | AI Cover (NFAK Style) | Heart Touching Sufi Kalam 2026

The Questions Every Child Asks About God! | Grandpa Explains | خدا کو کس نے بنایا؟ |2015

What were the differences of Dr. Israr Ahmed with Maulana Maududi? - Hussain Farooq Maududi

Aa Gham e Shabbir Aa Seene Laga Kar Choom Loon | Muharram Kalam 2026 | NFAK Style Qawwali

Shahsawar e Karbala Ki Shahsawari Ko Salam | Muharram Kalam 2026

Iqbal Poem Heaven | اقبال کی نظم بہشت ، پیام مشرق میں

SECRET MISSION Full Movie | Akshay Kumar, Esha Gupta | New Hindi Air Force Action Movies 2026

Twisted Philosophy

Uski umeed e naz ka hamse ye man tha /jaun elia poetry/ ek gali ki bat thi or

“Je Rab Milda” | Devotional Soul-Stirring Sufi Punjabi Kalam | Hazrat Baba Bulleh Shah 2026

Baang-e-Dara: 105 | Shikwa | The Complaint | Allama Iqbal | Iqbaliyat | AadhiBaat

Full Kalam | Tu Kuja Man Kuja | Heart Touching Naat | Soulful AI Rendition | تو کجا من کجا

Zia Mohyeddin | Parhant: Ibn-e-Insha | Day 02 | 14th Aalmi Urdu Conference | #acpkhi #urduconference

😔 Wasim Akram Ka Bowling Andaz | Hajj ke Doran Ajeeb Activity 💔| Engineer Muhammad Ali Mirza

Morning star: Iqbal poem from Bange Dra | صبح کا ستارہ - بانگِ درا سے

Death Waqia Pir Naseeruddin Naseer Golra Sharif

ساده منم، باده منم، از همهجا رانده منم (مولانا با صدای عشق)

بابا بلھے شاہؒ کا مشہور کلام | اُٹھ یار منالے | Punjabi Sufi Kalam

