Hunting for the Rare Blind Dolphin of Indus River! 🐬 |دریائے سندھ کی کہانی پاکستان کی لائف لائن 🌊 |
دریائے سندھ پر قائم لاڑکانہ-خیرپور پل (جسے مقامی طور پر لاڑکانہ-خیرپور بائی پاس پل یا باقرانی-پُرانو آباد پل بھی کہا جاتا ہے) سندھ کے دو اہم ترین اضلاع کو آپس میں ملانے والا ایک انتہائی اہم اور جدید تزویراتی (Strategic) منصوبہ ہے۔ اس پل کی تعمیر سے پہلے لاڑکانہ اور خیرپور کے درمیان سفر کرنے کے لیے لوگوں کو سکھر یا دادو-مورو کے طویل راستوں کا انتخاب کرنا پڑتا تھا، جس میں گھنٹوں کا وقت ضائع ہوتا تھا۔ یا پھر ملاحوں کی روایتی کشتیوں (بیڑیوں) کے ذریعے دریائے سندھ کو عبور کیا جاتا تھا، جو کہ خاص طور پر سیلاب کے دنوں میں انتہائی خطرناک عمل تھا۔ اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پل کی منصوبہ بندی کی گئی۔ لاڑکانہ اور خیرپور کو جوڑنے والے اس عظیم الشان پل کا سنگِ بنیاد 19 جنوری 2007ء کو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے رکھا۔ اس منصوبے کا آغاز لاڑکانہ کی طرف سے تعلقہ باقرانی کے گاؤں 'پُرانو آباد' کے قریب سے کیا گیا، جبکہ دوسری طرف یہ خیرپور میں قومی شاہراہ (N-5) پر ٹنڈو مستی خان کے مقام سے جڑتا ہے۔ یہ منصوبہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے تحت تیار کیا گیا۔ اس منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 5 ارب روپے سے زائد تھا، جو بعد میں اپروچ روڈز اور دیگر توسیعی کاموں کی وجہ سے بڑھ گیا۔ دریائے سندھ پر بنے اس مرکزی پل کی کل لمبائی تقریباً 1,222 میٹر (1.22 کلومیٹر) ہے، جبکہ دونوں اطراف کی رابطہ سڑکوں (Approach Roads) کو ملا کر یہ پورا نیٹ ورک کئی کلومیٹر طویل ہے۔ دریائے سندھ کا یہ حصہ فلڈ پلین (سیلابی پٹی) کے لحاظ سے بہت وسیع ہے، یہاں دریا کی چوڑائی تقریباً 15.7 کلومیٹر تک پھیل جاتی ہے، جس کے درمیان میں یہ 1.16 کلومیٹر چوڑا پل انجینئری کا ایک بہترین شاہکار ہے۔ اس پل کی تکمیل سے لاڑکانہ اور خیرپور کے درمیان کا سفر گھنٹوں سے سمٹ کر منٹوں میں تبدیل ہو گیا۔ اس پل نے لاڑکانہ کی مشہور دھان (چاول) کی مارکیٹ اور خیرپور کی عالمی سطح پر معروف کھجور کی منڈیوں کے درمیان براہِ راست تجارتی راستہ فراہم کیا۔ یہ پل لاڑکانہ میں واقع پانچ ہزار سال پرانی تہذیب موئن جو دڑو اور خیرپور کی تاریخی ٹالپر ریاست کے شاہکار فیض محل کو آپس میں جوڑتا ہے، جس سے خطے میں سیاحت کو بہت بڑا فروغ ملا۔ دریائے سندھ میں بالکل ڈولفن پائی جاتی ہیں۔ انہیں عام طور پر "سندھو ندی کی اندھی ڈولفن" (Indus River Dolphin) یا مقامی زبان میں "بلہن" کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی نایاب ترین اور منفرد ترین ڈولفنز میں سے ایک ہیں۔ ان کے بارے میں چند دلچسپ اور اہم باتیں یہ ہیں: یہ دیکھ نہیں سکتیں: دریائے سندھ کے گدلے پانی (مٹیالے پانی) میں رہنے کی وجہ سے ارتقائی طور پر ان کی آنکھیں اب ناکارہ ہو چکی ہیں۔ یہ دیکھنے کے بجائے راستے اور شکار کا پتہ لگانے کے لیے ایکو لوکیشن (Echolocation) یعنی آواز کی لہروں کا استعمال کرتی ہیں۔ یہ ڈولفن ہمیشہ اپنی ایک سائیڈ (کروٹ) پر تیرتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں "سائیڈ سوئمنگ ڈولفن" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر سندھ اور پنجاب میں دریائے سندھ کے مخصوص حصوں میں پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر سکھر اور گڈو بیراج کے درمیان کا علاقہ ان کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہے۔ یہ ایک خطرے کا شکار (Endangered) نسل ہے، لیکن حالیہ سالوں میں محکمہ جنگلی حیات اور مقامی تنظیموں کی کوششوں کی وجہ سے ان کی تعداد میں کچھ بہتری آئی ہے۔ #ExplorePakistan #SindhTourism
