Marsiya Shab-e-Ashoor l Mir Anees | "Jab Zulf Ko Khole Hue Laila-e-Shab Aayi"

Marsiya Shab-e-Ashoor l Mir Anees | "Jab Zulf Ko Khole Hue Laila-e-Shab Aayi" Marsiya : مرثیہ میر انیس (شبِ عاشور) "جب زُلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی" Recitation: Jauhar Abbas Presentation: Saeed Jafri About Mir Babar Ali Anees, also known as Mir Anees was an Indian Urdu poet. He used his pen-name of Anees in poetry. Anees used Persian, Urdu, Arabic, and Sanskrit words in his poetry. Born: 1800, Faizabad, India Died : December 10, 1874 (age 74 years), Lucknow, India Books : The battle of Karbala Full name : Mir Babar Ali Anees میر ببر علی انیس (1800ء – 1874ء) اردو زبان کے سب سے بڑے اور ممتاز ترین مرثیہ نگار تھے۔ آپ کا تعلق دبستانِ لکھنؤ سے تھا اور آپ نے اپنی لازوال شاعری کے ذریعے سانحہ کربلا کو جذبے، فصاحت اور منظر نگاری کے نئے اور بے مثال عروج تک پہنچایا۔ مرثیہ میر انیس (شبِ عاشور) "جب زُلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی" جب ز لف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی پردیس میں سادات پہ آفت عجب آئی فریاد کناں روحِ امیرِ عرب آئی غل تھا کہ شبِ قتلِ شہِ تشنہ لب آئی ! سادات کو کیا کیا غم جاںکاہ دکھائے رات ایسی مصیبت کی نہ اللہ دکھائے کاغذ پر لکھنے کیا قلم اُس شب کی سیاہی ہے چار طرف جس کی سیاہی سے تباہی مرغانِ ہو ا بر میں تپاں بحر میں ماہی تربت سے نکل آئے تھے محبوب الہٰی فریاد کا تھا شور، رسولانِ سلف میں یثرب میں تزلزل تھا اداسی تھی نجف میں صدمے سے ہوا رنگ رخ ماہ کا کافور اختر بھی بنے مرد مکِ دیدۂ بے نور غم چھا گیا، راحت دلِ عالم سے ہوئی دُور تصویرِ الم بن گئی جنت میں ہراک حور کہتے تھے ’’ملک رات نہ ہووے گی اب ایسی‘‘ تاروں نے بھی دیکھی نہ تھی تاریک شب ایسی شمع طربِ محفل عالم تھی جو خاموش تھی رات بھی شبیر کے ماتم میں سیہ پوش کیا غم تھا کہ شادی تھی ہر اک کو فراموش ہر چشم کو تھا غم میں سمندر کی طرح جوش مضطر تھے علی، اشکوں سے منہ دھوتی تھی زہرا مقتل تھا جہاں شاہ کا ،واں روتی تھی زہرا #MirAnees #Marsiya #ShabEAshoor #Karbala #ImamHussain #Muharram #Ashura #UrduPoetry #IslamicPoetry #AhlulBayt #Muharram2026 #MarsiyaKhawani #YaHussain #KarbalaStatus #UrduAdab #Noha #Salam #Shia #Azadari #hearttouching #jauharabbas #saeedjafri #awaz-e-adab