آخر کار وہ ویڈیو مل گئی جس ویڈیو میں حیدر مہمند ہسپتال کو سیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

پشتو میں ایک ضرب المثل ہے "چرته نہ کار هلته سه کار"مطلب جہاں آپ کا کام نہیں تو وہاں آپ کا کیا کام۔ گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر پشاور مصباح وحید نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرکے پشاور کی جانی پهچانی هسپتال حیدر مهمند هومیوپیتک هسپتال کو سیل کرنے کی دهمکی دی اور هسپتال کے مالک ڈاکٹر حیدرعلی مهمند پر کیس کر ڈالا جب کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب بار بار اسسٹنٹ کمشنر سے زبردستی هسپتال سیل کرنے کی وجہ پوچھ رہے ہیں جبکه هسپتال کے سب کاغزات بشمول ڈاکٹر کی ڈگری یہی کمشنر صاحبه تایید کر چکی هے۔سوال یه پیدا هو رها هے کے کیا ادارے اتنے کمزور ہو گئے ہیں کے اپنے زور و جبر کے بنا پر کسی بھی معزز شهری کو ٹارچر بنا دیتے ہیں اور اگر ان کی غلام نه رہیں تو پهر جیل میں بند هونے کے دهمکی پر اتر آتے ہیں۔ بزرگوں کا کہنا ہے کے جن کا کوئی نہیں تو ان کا الله کافی هوتا هے۔ لہذا ہم حکومت پاکستان کے اعلی حکام سے درخواست کرتے ہیں کے واقع کی چانچ پڑتال کرکے مغزز شهری کو انصاف دلایه جایے کہ آیندہ ایسے واقعات کی روک تهام هو سکے۔ فوکل پرسن آف ڈاکٹر حیدر علی مہمند باسط علی